چچا کا دفتر ویسٹ وارف پر تھا اور ان کے دفتر جاتے ہوئے ہم سوچتے تھے کہ چچا کو سارے کراچی کی ہزاروں لاکھوں گلیاں، سڑکیں اور موڑ کیسے یاد رہتے ہوں گے کہ وہ عزیز آباد سے کیماڑی ڈرائیو کر کے خود ہی پہنچ جاتے ہیں۔
بچپن میں ہم نے بھی ایسی بہت سی کہانیاں سنیں۔ مثلاً سیٹھ داؤد ابراہیم نے پاکستان کی حکومت کو آفر کی تھی کہ مجھے ہیروئن کا ایک شپ پاکستان کی بندرگاہ سے لے جانے کی اجازت دے دو تو میں پاکستان کا تمام قرضہ ادا کر دوں گا۔ :laughing:
اور اصل بات تو آپ نے کی ہی نہیں۔ ان 1000 روپوں میں وہ آپ کو کوئی نئی اور اچھی ریٹنگ والی مووی نہیں دیتے۔ نئی اور اچھی ریٹنگ کی مووی تقریباً 5 ڈالر فی مووی الگ سے ملتی ہے۔ :)
ہماری روزی روٹی ہے۔ جو پراسیس چل رہے ہوتے ہیں وہ کئی کئی دن کے ہوتے ہیں۔
دفتر نہ جا کے گھر پر کام کرنے میں یہ تو ہوتا ہے کہ لیپ ٹاپ ہی سے سرور کا کام لیا جاتا ہے۔ :)
جی جی پہلے ماؤں کے قدموں تلے ہوتی تھی اب چونکہ زمین گھوم رہی ہے وہ بھی 1100 میل فی گھنٹہ کے حساب سے تو وہ کھسک کے بیویوں کے قدموں تلے آ گئی ہے :rollingonthefloor: