جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
نہ چھوڑے محبت دمِ مرگ تک
جسے یار جانی سے یاری لگے
نہ ہووے اُسے جگ میں ہر گز قرار
جسے عشق کی بے قراری لگے
ہر اک وقت مجھ عاشقِ پاک کو
پیارے، تری بات پیاری لگے
ولیؔ کو کہے تو اگر اک بچن
رقیباں کے دل میں کٹاری لگے
ولی دکنی
نوٹ: جدید اردو املا...
ہر حرف ہے سرمستی، ہر بات ہے رندانہ
چھائی ہے مرے دل پر وہ نرگسِ مستانہ
وہ اشک بہے غم میں یہ جاں ہوئی غرقِ خوں
لبریز ہوا آخر یوں عمر کا پیمانہ
آ ڈال مرے دل میں زلفوں کے یہ پیچ و خم
آشفتہ سروں کا ہے آباد سیہ خانہ
واللہ کشش کیا تھی مستی بھری آنکھوں کی
یہ راہ چلا خسرو رندانہ و مستانہ
امیر خسرو...
شاید، نہیں۔۔۔ میں کرننگ والا استعمال نہیں کرتا کیونکہ اس کی پی ڈی ایف بے انتہا بھیانک اور ناقابل استعمال بنتی ہے۔ میں نے محفل میں کہیں اس کا نمونہ بھی لگایا تھا۔
اور آپ کو اپنے خیالات کا جواب درکار ہے تو پارمنڈیز، اناکساگارس اور ایمپیڈوکلیز جیسے ڈھیروں ڈھیر نجانے کیا کیا کچھ کہہ گئے ہیں ۔۔۔۔ اس لیے طبیعت پر گراں نہ گزرے تو آپ ان سب کا تمام فلسفہ پڑھیں ۔ اور اگر اپنی باقی ماندہ زندگی میں یہ کام کر جائیں تو گوگل کر کے مزید ویہلے اور گھسے پٹے فلسفیوں کے...
صرف دو ماہ قبل اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے سندھ کے گورنر اور پاکستان کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی 11 جنوری 2017 کو 78 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
رد کرنے کا مطلب ہوتا ہے تردید کرنا، مسترد کرنا، باطل قرار دینا، وغیرہ وغیرہ
جب کہ گھٹیا یا بَڑھیا صفات ہیں یعنی کسی شے کا مقام، مرتبہ یا درجہ متعین کرنا کہ یہ برا کلام ہے یا بھلا یا یوں کہہ لیں کہ بڑھیا ہے یا گھٹیا اور تنقید کی بنیادی تعریف کے تحت یہ عین حق تنقید ہے۔
آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے میری تنقید کو دوبارہ پڑھیے اور بتائیے کہ کون سا عنصر ہے جو اسے ادب سے خارج کر رہا ہے؟
نیز کیونکر اس کا بیانیہ ادبی نہیں؟
اور اگر تاثرات ہیں تو کیا تاثرات کو ادب سے نکال باہر کر دیا ہے آپ نے؟
رہے احسن یا کوئی اور فاروقی۔۔۔ کیا وہ گھٹیا بات نہیں کر سکتے؟
نامہ بر اپنا ہواؤں کو بنانے والے
اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے
کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے
مے کدے بند ہوئے، ڈھونڈ رہا ہوں تجھ کو
تو کہاں ہے مجھے آنکھوں سے پلانے والے
کاش لے جاتے کبھی مانگ کے آنکھیں میری
یہ مصوّر تری تصویر بنانے والے
تو اس...
میں بھی یہی مشورہ دینے والا تھا کہ پہلے فاروق سرور خان صاحب کی مرتب کردہ شاہکار ویب سائٹ اوپن برہان پر مختلف مترجمین کے کیے ہوئے تراجم آیت بہ آیت پڑھیں۔ میں اپنے جاننےو الوں کو آپ کی یہی سائٹ ریفر کرتا ہوں۔