ایسا اس لیے ہوا کہ
یکایک بجلی چمکی، بادل گرجا۔ طوطی نے ڈر کر طوطے سے کہا
بادل کیوں گرجتا ہے ڈر کچھ ایسا لگتا ہے چمک چمک کے یہ بجلی ہم پہ گر جائے نا
طوطے نے تسلی دیتے ہوئے کہا
بھلئیے لوکے گھونسلہ کون سا ہمارا اپنا ہے۔ ادھر بجلی چمکی ادھر ہم نے اڑنے کو پر تولے۔