چلیں یہ تو ہمیں سمجھ آ گئی کہ ہماری شاعری کو ہم خود ہی سنیں گے اور داد دیں گے باقی سب تو "عرض کرتی ہوں" سنتے ہی بھاگ لیں گے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی،آدھی ہم نے چھپائی ہو