عشق کا زخم جو منت کشِ مرہم ہوتا
عید کے روز بھی ہر گھر میں محرم ہوتا
ڈر نہ ہوتا جو کہیں عشق میں رسوائی کا
ساتھ عشاق کے اک حلقۂ ماتم ہوتا
آتشِ عشق میں جلنے کا مزا اپنا ہے
تم نہ ہوتے تو یہ شعلہ ہمیں شبنم ہوتا
ہم تو مر جاتے تڑپ کر غمِ تنہائی سے
سلسلہ آپ کی یادوں کا اگر کم ہوتا
صبر، ایثار،...
کشتی و بادبان ڈوب گئے
یا زمیں آسمان ڈوب گئے
سب نے برسات کی دعا مانگی
پھر سبھی کے مکان ڈوب گئے
صرف اک آدمی کی غفلت سے
انگنت خاندان ڈوب گئے
عشق کے بیکراں سمندر میں
ہم بصد آن بان ڈوب گئے
اب کے سیلابِ کم نگاہی میں
منزلوں کے نشان ڈوب گئے
ہم بلندی پہ آ گئے لیکن
کتنے ہی بے زبان ڈوب گئے
ڈوب...
تھی ہم کلام شجر سے دعا کے لہجے میں
عجیب کرب تھا بادِ صبا کے لہجے میں
وہ شامِ ہجر وہ دھڑکن دلِ شکستہ کی
چراغ کرتا تھا باتیں ہوا کے لہجے میں
مری انا کا سفینہ ڈبو کے ساحل پر
بلا کا طنز تھا سیلِ بلا کے لہجے میں
وہ میری پرسشِ احوال کو تو آئے مگر
جوازِ ترکِ تعلق چھپا کے لہجے میں
وہ کم سخن تھا...
ہم نے برسوں میں یہ ہنر جانا
خواہشِ زندگی ہے مر جانا
جلدی جلدی بہت سے کام کیے
زیست کو جب سے مختصر جانا
کتنا سادہ مزاج ہوں میں بھی
میں نے صحرا کو اپنا گھر جانا
بے تعلق کسی کی چاہت میں
سوچنا کس طرف کدھر جانا
شعر کہنا بصورتِ آیات
اور تفسیر سے مُکر جانا
روشنی کی تلاش میں رہنا
تیرگی اوڑھ کر...
کفایت ہاشمی بھائی، محمد شعیب بھائی
دیوانِ ظہیر الدین بابر
بابرنامہ (لاطینی خط)
ازبک/چغتائی ادب
کلاسیکی چغتائی شعرا کا تعارف اور ان کے کلام کا نمونہ
بابر نامہ (عربی خط میں قلمی نسخہ)
میرا ہم جماعت کچھ مخصوص سگریٹ پیپر لایا تھا،جن پر عربی لکھی ہوئی تھی، یعنی عرب دنیا سے امپورٹ ہوئے ہوں گے۔ ان میں سگریٹ کا نکلا ہوا تمباکو بھر کر سگریٹیں بنائی جاتی تھیں۔ اُس کے بقول ان پیپروں کو 'ورق الشام' کہتے تھے۔
اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی
کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے
آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی
بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں
میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی
وہ شاعروں کا شہر وہ لاہور بجھ گیا
اگتے تھے جس میں شعر وہ کھیتی ہی جل...