بے داد و جور و لطف و ترحم سے کیا غرض
تم کو غرض نہیں، تو ہمیں تم سے کیا غرض
کیوں ہم شبِ فراق میں تارے گنا کریں
ہم کو شمارِ اختر و انجم سے کیا غرض
کوئی ہنسا کرے، تو بلا سے ہنسا کرے
کیوں دل جلائیں، برقِ تبسم سے کیا غرض
لیتے ہیں جاں نثار کوئی منتِ مسیح
جو ہو شہیدِ عشق اسے قم سے کیا غرض
جو...
بہت عمدہ جناب. لاجواب. داد قبول فرمائیے.
اور اس گستاخی پر پیشگی معذرت:
جو شادی کر لے، سدھر جائیں تیرے بھی حالات
یہ پاؤں میں ترے میلی جراب کیونکر ہو؟
یہ اور بات کہ دھونا پڑیں گی خود تجھ کو
وگرنہ دہر میں پھر کم عذاب کیونکر ہو؟
ایک اور کام جو آج کل بڑی شد و مد سے کر رہی ہے وہ ہماری نصیحتوں کو واپس لوٹانا ہے۔
مثلاً حذیفہ سو رہا تھا تو مسز نے کہا کہ شور نہ کرو، حذیفہ سو رہا ہے۔
ایک دن مسز لیپ ٹاپ پر لیکچر سن رہی تھیں تو کہتی ہے کہ ماما شور مت کریں، حذیفہ سو رہا ہے۔
میری بیٹی آج کل ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کر رہی ہے۔
اب چونکہ اس کے نزدیک "نہیں" کا الٹ "ہے" ہے۔
لہٰذا جب کہا جائے کہ یہ حفصہ کی گڑیا نہیں ہے۔
تو جواباً کہتی ہے کہ یہ حفصہ کی گڑیا "ہے "ہے۔