اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
میں نے عالمِ بالا میں آپ سے کچھ آگے کا سفر کیا تھا۔
اور اپنی کارووائی کی روداد دوسروں سے سنی تھی۔ کیونکہ وہ لمحات میری یادداشت میں محفوظ نہ رہ سکے۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ صبح دیر سے دفتر کے لیے نکلا تھا اور پھر کوئی مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ
بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟...