تُو وہ باطن ہے کہ جلباب ہیں تجھ پر لاکھوں
تُو وہ ظاہر ہے کہ بے تاب ہیں مظہر لاکھوں
ہُوں وہ کافر کہ زمانے کے صنم ہیں مرغوب
ہُوں وہ مجنوں کہ مجھے چاہئیں پتھر لاکھوں
نورِ عرفاں جو نہ ہو جہل کی ظلمت میں نہاں
ایک ہی تجھ کو نظر آئیں یہ مظہر لاکھوں
خاک سے سبزہ نکلتا ہے جو مانندِ زباں
ہو گئے زیرِ...