1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

ناسخ غزل: تُو وہ باطن ہے کہ جلباب ہیں تجھ پر لاکھوں

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 4, 2017

ٹیگ:
  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    تُو وہ باطن ہے کہ جلباب ہیں تجھ پر لاکھوں
    تُو وہ ظاہر ہے کہ بے تاب ہیں مظہر لاکھوں

    ہُوں وہ کافر کہ زمانے کے صنم ہیں مرغوب
    ہُوں وہ مجنوں کہ مجھے چاہئیں پتھر لاکھوں

    نورِ عرفاں جو نہ ہو جہل کی ظلمت میں نہاں
    ایک ہی تجھ کو نظر آئیں یہ مظہر لاکھوں

    خاک سے سبزہ نکلتا ہے جو مانندِ زباں
    ہو گئے زیرِ زمین خاک سخن ور لاکھوں

    کیا ہے اے قاتلِ عالم! ترے آگے تلوار؟
    تجھ میں تو اور بھی جز قتل ہیں جوہر لاکھوں

    خاک ہو جاتے ہیں جیسے سمن و گل ہر سال
    ہو گئے خاک گل اندام و سمن بر لاکھوں

    دن کو بس ایک ہی خورشید نظر آتا ہے
    رات کو جلوہ نما ہوتے ہیں اختر لاکھوں

    اعتمادِ سر و سامانِ شہی خاک نہیں
    ہو گئے خاک برابر سرِ افسر لاکھوں

    آدمی کیا! کہ سنو مجھ سے فرشتوں کا حال
    جل گئے شعلۂ ادراک سے شہ پر لاکھوں

    آنکھیں ہم رندوں کی اشکوں سے ہیں پُر بہرِ شراب
    ایک شیشہ نہیں لبریز ہیں ساغر لاکھوں

    تو ہے محبوبِ خدا، صدقے ہو تجھ پر ناسخؔ
    امتیں کیا! ترے تابع ہیں پیمبر لاکھوں

    ٭٭٭
    استاد امام بخش ناسخؔ
     
    • زبردست زبردست × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. چودھری مصطفی

    چودھری مصطفی محفلین

    مراسلے:
    405
    لا جواب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. کلیم گورمانی

    کلیم گورمانی محفلین

    مراسلے:
    98
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آنکھیں ہم رندوں کی اشکوں سے ہیں پُر بہرِ شراب
    ایک شیشہ نہیں لبریز ہیں ساغر لاکھوں

    بہت پیارا انتخاب
    صدیقی صاحب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شکریہ جناب
    بہت شکریہ جناب
     
  5. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,610
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    تُو وہ باطن ہے کہ جِلباب ہیں تجھ پر لاکھوں
    تُو وہ ظاہر ہے کہ بے تاب ہیں مُظہَر لاکھوں


    نُورِ عِرفاں جو نہ ہو جہل کی ظُلمت میں نِہاں
    ایک ہی تجھ کو نظر آئیں یہ مُظہَر لاکھوں

    خاک سے سبزہ نکلتا ہے جو مانندِ زباں !
    ہو گئے زیرِ زمِیں خاک سُخن ور لاکھوں

    :) :) :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر