بے شک، پاکستانی چینلوں پر پاکستانی مواد کو ہی اولیت ہونی چاہیے، اور دوسرے ملکوں کے مواد سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ لیکن اگر بھارتی ڈراموں سے ترکی ڈراموں کا تقابل کیا جائے، تو میں ترکی ڈرامے منتخب کروں گا۔
پاکستان سے باہر رہنے والے احباب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جب سے 'عشقِ ممنوع' ہٹ ہوا ہے، اس کے بعد سے بڑے نجی چینلوں نے بھی ترکی ڈرامے دکھانے شروع کر دیے ہیں۔ عشقِ ممنوع کی آخری قسط پچھلے ہفتے چلی تھی، جبکہ فی الوقت نور، گل بانو، آسی اور ایک دو اور ترکی ڈرامے اِدھر اُدھر سے اردو میں نشر ہو رہے...
مشرقی میڈیا نہیں بھارتی اور پاکستانی میڈیا۔
پاکستانی میڈیا کا اچھا بھلا پیشہ ورانہ انداز تھا، بھارت کی بھونڈی نقل میں صرف مرچ مصالحہ تفریح بن کر رہ گیا ہے۔
امریکہ اپنی تمامتر سائنسی ترقی اور جدیدیت کے باوجود مغرب میں اوہام کا گڑھ ہے۔ وہاں ابھی تک ٹی وی پر براہِ راست یسوع مسیح کے نام پر بھوت پریت نکالے جاتے ہیں۔ :)
مغربی میڈیا نے بھی یقینا اس واقعے کو کیش کرایا ہوگا، لیکن پیش ورانہ انداز میں۔ جبکہ یہاں تو جیو جس مصالحہ دار اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں اس کی خبریں نشر کر رہا تھا، اُس سے تو جیو میں اور ہیرو ٹی وی میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا تھا۔
ترکی میں خوف مقامی آبادی سے زیادہ وہاں باہر سے آئے جدید روحانیت کے پیروکاروں میں تھا۔
ویسے سروے کے مطابق اس ممکنہ قیامت سے سب سے زیادہ اضطراب چین میں تھا، جہاں ایک شخص نے تو اپنی جمع پونجی خرچ کر کے سفینۂ نوح تک بنا ڈالا تھا۔
پولیو مہم کے رضاکاراور مجاہدین اسلام - نصرت جاوید
پولیو کے قطروں کے خلاف مہم اچانک شروع نہیں ہوئی۔2002ء کے بعد جب اس وقت کے صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کی مضبوط حکومت ہوا کرتی تھی تو مالا کنڈ ڈویژن کی وادی سوات میں مولوی صوفی محمد ابھرے ۔انھوں نے نوجوانوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ افغانستان پہنچ...
ایک دن زیب النساء بیگم نے اپنے مصاحب ناصر علی کو یہ مصرع بھیجا:
از ہم نمے شود ز حلاوت جدا لبم
(حلاوت کے باعث میرے ہونٹ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے)
ناصر علی نے بطور مزاح اس کے ساتھ یہ مصرع باندھ دیا:
گوئی رسیدہ بر لبِ زیب النساء لبم
(گویا میرے ہونٹ زیب النساء کے ہونٹوں پر پہنچ گئے ہوں)
زیب...