اُٹھا نہ شورشِ وہم و قیاس آنکھوں سے
جو سچ ہے سن مِری زخمی اداس آنکھوں سے
وہ ایک موتی جو دل میں چھپا کے رکھا تھا
پھسل گیا وہ مِری بد حواس آنکھوں سے
نہ اب وہ حُسنِ نظر، نے کشش نظارے میں
اتر گیا جو حیا کا لباس آنکھوں سے
تِری دعائے سحر کا عِوض نہیں، لیکن
لکھا ہے میں نے بھی حرفِ سپاس آنکھوں سے
وہ...