خبر ہے عالِم ایجادِ کُل اور مُبتدا تم ہو
پسِ حمدِ خدا وَاللہ، سزاوارِ ثنا تم ہو
تمہیں انساں یہ سمجھا جس قدر اس سے سوا تم ہو
خدا ہی جانتا ہے کیا نہیں ہو اور کیا تم ہو
شہِ کونین ہو، ختم الرسل ہو، مجتبیٰ تم ہو
خدا مطلوب ہے تم کو خدا کا مدعا تم ہو
تمہاری ہر ادا ہے دل نشیں وہ خوش ادا تم ہو
حسینانِ...