ظروف چائے کے ایسے بڑے ہوں کہ کم سے کم 400 ملی لیٹر چائے تو ایک میں سما جائے۔ اور تین نہیں تو دو تو کم سے کم سامنے رکھے ہوں تا کہ ایک کے بعد دوسرا پیا جاسکے۔
طبیعت صاف کر ڈالیں گے روفی بھیا ہماری۔ اس سے اچھا تھا کہ محفل سویا ہوا محل ہی بنی رہتی اور ہماری آنکھوں کی سوئیاں آنکھوں ہی میں موجود رہتیں۔ مگر علی وقار بھیا نے پُر جوش کر دیا ہم نکمے لوگوں کو۔
ژ کی باری تھی اب تو۔۔۔۔۔ چائے میں شکر حلول کرتی ہے اور انسان میں چائے۔ ایسا ہی کچھ مطلب نکلتا ہو گا اس شعر کا۔ لیکن ہمیں شعروں کی سمجھ نہیں ہے جبکہ ہمارے سارے بھائی شعرا ہیں۔