یہ نکتہ بھی آپ نے اچھا اُٹھایا کہ چھوٹے شہروں کو میڈیا والے فوقیت نہیں دیتے اور اُن کے دفاتر چونکہ بڑے شہروں میں ہوتے ہیں سو وہ باآسانی اُنہی علاقوں کی کوریج میں مصروف رہتے ہیں۔ حالانکہ خبروں کی تعداد یا دورانیہ کا تعین خبر کی شدت اور اہمیت کے اعتبار سے ہونا چاہیے نہ کہ میڈیا کی رسائی کے اعتبار سے۔
انتظار رہے گا۔
جب کسی شخص کی اچھائیاں اُس کی خامیوں پر غالب ہوں تو ہم اُسے اچھا انسان کہتے ہیں یہی بات اُلٹ ہو تو وہ بُرا انسان کہلاتا ہے۔ سو میڈیا کا کردار بھی سو فیصد تو مثبت یا منفی نہیں ہو سکتا البتہ اس کے رجحانات سے سمت کا تعین کسی حد تک کیا جا سکتا ہے۔
اچھی بات ہے۔
میڈیا کی اچھی...
یہ بات واقعی صحیح ہے۔ تاہم اگر ایسے موقعوں پر بھی سوئے ہوئے نہ جاگیں تو رخسارِ مبارک پر طمانچہ شریف ارسال کرنے سے ہی ہوش و خرد کو غفلت و لاپرواہی سے جدا کیا جاسکتا ہے۔ :)
ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی پاکستان تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانیوں کی مشکلات روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان بری طرح دہشت گردی کا شکار ہے اور انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ دیگر معاشی اور معاشرتی مسائل بھی پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر...
واہ کیا بات ہے۔
واقعی سوچنے کی بات ہے۔ خود احتسابی کا موقع ہے۔ ہم جو دوسروں پر تنقید میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہمیں بھی اپنے کردار کو کڑی نظر سے جانچنے کی ضرورت ہے۔
اتفاق ہے کہ آج ہمارا مصمم ارادہ تھا کہ یہ ملی نغمہ (کلام) ہم اپنے بلاگ پر لگائیں گے لیکن آپ نے یہ کام پہلے سے ہی کر دیا۔
اناللہ و انا الیہ راجعون
بہت افسوس ہوا یہ خبر جان کر۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت مرحومہ کی مغفرت فرمائے، اور آپ کو اور اہلِ خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے (آمین)
عمر بھائی ۔۔۔۔۔! دراصل پچھلے دنوں مصروفیت بھی زیادہ رہی سو زیادہ وقت نہیں دے سکا۔ پھر محفل پر ہمارا ریسپانس ٹائم بھی کچھ بڑھ گیا ہے کہ ہم احباب کی تحریریں فوراً نہیں دیکھ پاتے لہٰذا ترکی بہ ترکی گفتگو نہیں ہو پاتی سو ہم تُرکی کو تَرک کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ :)