شکر کیجے کہ محترم ایچ اے خان صاحب موجود نہیں ہیں۔ :)
ویسے ان سے نمٹنے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ ان سے فریاد نما درخواست کی جائے کہ انیس بھیا آپ میچ والے دن کرکٹ کے دھاگے میں نہ آئیں۔ بلکہ نونہال ادب سے کوئی شاہکار تحریر ڈھونڈ کر محفل میں پیش کریں۔ :)
جبر اسکارف پہننےکے لئے نہیں تھا بلکہ نہ پہننے کے لئے تھا۔ یہ نام نہاد لبرل (سیکولر) لوگ اگر شخصی آزادی کے قائل ہیں تو اُنہیں کیا تکلیف تھی اس بات سے۔
کیا آپ کا احتجاج معاملے کے برعکس نہیں ہے۔
سوئے فلک، تو سدا دیکھتے ہی رہتے ہو !
کبھی تو پلکوں پہ بکھری یہ کہکشاں دیکھو
کسی نے دل لگی، دل کی لگی کسی نے کہا
کسی کے جذبوں کا ہو بھی گیا زیاں دیکھو
بہت خوب ۔۔۔۔!
شکریہ شراکت کا۔