کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا
میں شاخِ عصر پہ بیٹھا ہوا پرندہ تھا
پھر ایک رات مجھی پر جھپٹ پڑا مرا ضبط
میں جس کو پال رہا تھا کوئی درندہ تھا
توقیر تقی (بورے والا)
اور کیا یہی تو زندگی جیا ، بغیر نم آنکھوں کے بھی کیا جیا جانا جینا ہے ۔۔
تف ایسے جینے پر کہ جس میں جینے کے نام پر آنکھیں نم نہ ہوں۔
آنکھیں نم ہوں تو دل کی کھیتی زرخیز رہتی ہے۔
آنکھیں نم ہوں تو ایک سرگوشی کرتی کسک ہوتی ہے
جو زندگی کی علامت ہے۔
والسلام
ارے یہ بے خبری۔
(معاف کیجئے گا میں شعائرِ اسلامی کی نہیں ۔ ان مولوے مفتے کی بات کروں گا)
:: تازہ فتوے ::
از: مفتی محمد محمود مغل ھوالمعروف م۔م۔مغل کراچوی مدظلہ العالی دامت برکاتہم
22 برس قبل بہاولپور کے ایک مفتی نے فتویٰ ارشاد کیا کہ ریڈیو کو ہاتھ لگانے
سے نکاح باطل ، ایمان باطل ہو جائے...
کیا بات سے سبز پری صاحبہ ۔۔ خوب حسنِ انتخاب ہے واہ
آپ کی باذوق سماعتوں بصارتوں کی نذر:
دکھ سب کے مشترک تھے مگر حوصلے جدا
کوئی بکھر گیا تو کوئی مسکرا دیا
بہت خوب۔۔
فاروقی صاحب بہت خوب کلام پیش کیا ہے ۔
مطلع پر ایک شعر یاد آگیا بچپن میں کہیں پڑھا تھا۔
دیکھا مجھے تو ترکِ تعلق کے باوجود
وہ مسکرا دیا یہ ہنر بھی اسی کا تھا۔
سلامت رہیئے ۔،
اور یونہی خوشیاں بکھیرتے سمیٹتے رہیئے۔
والسلام