غزل
(مومن خان مومن رحمتہ اللہ علیہ)
کھا گیا ہے غمِ بتاں افسوس
گُھل گئی غم کے مارے جاں افسوس
میرے مرنے سے بھی وہ خوش نہ ہوا
جی گیا یوںہی رائیگاں افسوس
گلِ داغ ِجنوں کھِلے بھی نہ تھے
آگئی باغ میں خزاں افسوس
موت بھی ہوگئی ہے پردہ نشیں
راز رہتا نہیں نہاں افسوس
تھا عجب...
غزل
(سید محمد اسمعیل متخلص بہ منیر )
پلکوں کی محبت کا خلل جائے تو جانیں
یہ پھانس کلیجے سے نکل جائے تو جانیں
ہر چند کہ آوارہ بہت ہے دلِ وحشی
باہر ترے کوچے سے نکل جائے تو جانیں
دل کے تو خریدار نظر آتے ہیں لاکھوں
چُٹکی سے کلیجہ کوئی مَل جائے تو جانیں
سوبار بلائے شبِ فرقت...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں
مرا خط پھینک کر قاصد کے مُنہ پر طنز سے بولے
خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں
ابھی اے جاں تونے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
جیئے ہم تو دکھا...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے
قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے
کہیں ایسا نہ ہو تجھ پر بھی کوئی وار چل جائے
قضا ہٹ جا کہ جھنجھلایا ہوا اِس وقت قاتل ہے
طنابیں کھینچ دے یارب، زمینِ کوئے جاناں کی
کہ میں ہوں ناتواں،...