غزل
سعدیہ روشن صدیقی
شیش محلوں میں بس کرچیاں رہ گئیں
گفتگو کے لئے تلخیاں رہ گئیں
اب تو پھولوں کے چہرے بھی مر جھا گئے
میری یاد وں کی سب تتلیاں رہ گئیں
کوئی دالان میں کوئی دہلیز پر
خواب بنتی ہوئی لڑکیاں رہ گئیں
جتنے بیٹے...
غزل
(ڈاکٹر راحت اندوری )
اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں
میں چاہتا تھا چراغوں کو ماہتاب کروں
بتوںسےمجھ کو اجازت اگر کبھی مل جائے
تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں
میں کروٹوں کے نئے زاویے لکھوں شب بھر
یہ عشق ہے تو کہاں زندگی عذاب کروں
ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے...
غزل
جوہر کانپوری
پرندوں کے لبوں پر بھی تلاوت جاگ جاتی ہے
سحر ہوتے ہی شاخوں پر عبادت جاگ جاتی ہے
مقرر وقت کوئی بھی نہیں اس کی نوازش کا
اسے جب بھی پکارو اسکی رحمت جاگ جاتی ہے
الگ ہی ٹھیک ہیں ہم ورنہ اب تو ساتھ رہنے پر
سگے بھائی کے سینے میں بھی نفرت جاگ جاتی ہے
ہمیں جس وقت...
غزل
(محمد خاں عالم حیدر آبادی)
وہ منہ کے سامنے چلمن گرائے بیٹھے ہیں
ہم اشتیاق کی صورت بنائے بیٹھے ہیں
نظر جمال پہ اُنکے جمائے بیٹھے ہیں
کہ پردہء در دل ہم اُٹھائے بیٹھے ہیں
ہمارے دل کا کریں گے وہ خون آج ضرور
سنا ہے ہاتھوں میں مہندی لگائے بیٹھے ہیں
خدا کے واسطے ہم سے نہ پوچھو...
غزل
(محمد خاں عالم حیدرآبادی )
تازہ ہوجاتی ہے جان سُن کے تمہاری آواز
بھر گئی ہے مرے کانوں میں یہ پیاری آواز
چین دل کو نہیں ملتا ہے مری جاں جب تک
نہیں آتی مرے کانوں میں تمہاری آواز
ہجر میں نالہ و فریاد کا یارا ہے کسے
اب تو لب تک نہیں آتی ہے ہماری آواز
دل تو کیا ہے رگ جاں بچ نہیں...
قدرِ انساں
نادر خان سَر گِروہ مقیم مکہ مکرمہ
کُرَہء ارض کا انسان مریخ پر وجودِ انساں کی تلاش میں کوشاں ہے۔۔دُور۔۔۔آسمان میں تاک لگائے مدھم و مبہم ستاروں کی کھوج میںگم۔۔۔سمندر کی گہرئی میں رنگا رنگ مخلوق سے رو برو ہونے کو غوطہ زن۔۔۔ویران کھنڈروں کی خاک اُڑا کر اُن کے مکینوں کے نقشِ پا...