غزل
(اختر شیرانی)
مری آنکھوں سے ظاہر، خوں فشانی، اب بھی ہوتی ہے
نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی، اب بھی ہوتی ہے
بہشتوں سے خفا، دنیائے فانی، اب بھی ہوتی ہے
جنوں کو حرصِ عمرِ جاودانی، اب بھی ہوتی ہے!
سرورآرا، شرابِ ارغوانی، اب بھی ہوتی ہے
مرے قدموں میں دنیا کی جوانی، اب بھی ہوتی ہے...
گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔
یہ سن کر خوبصورت لی لا غصے میں بھر گئی اور اس کی ماں نے برافروختہ ہو کر شتربانوں سے کہا " آج ہمیں یہاں سے کوچ کر جانا چاہیئے"۔۔۔ تب مجنوں حیرت سے وہیں کھڑا رہ گیا جہاں کھڑا تھا۔۔۔ اور کھڑا رہا۔۔۔یہاں تک کہ اس کا سارا جسم سوکھ کر لکڑی کے مانند ہوگیا۔۔۔
ایک دن ایک چرواہا...
گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔
یہ سن کر خوبصورت لی لا غصہ میں بھر گئی اور لی لا کی ماں نے برافروختہ ہو کر کہا ۔۔۔۔۔۔ " یہ نوجوان سچ میں اس سے محبت کرتا ہے۔ یہ نوجوان خطرناک ہے۔ مجھے کوئی کڑوا زہر لا کر دے تاکہ میں پیالے میں اُسے ملادوں'۔
صبح کو خادمہ وہ زہر کا پیالہ عاشق مجنا کے پاس لے گئی۔ وہ زہر لے کر...
تغزل
(عدم)
سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا
مرنے کا ہے موسم یہی، جی بھر کے مروں گا
آغاز طلب ہے مرا افسانہء ہستی
بنیاد تِری آنکھ کی مستی پہ دھروںگا
حالات مجھے خوابِ پریشان بنالیں
حالات کو کچھ میں بھی پریشان کروں گا
تو رُوپ میں انساں کے مرے سامنے آجا
اللہ! تجھے صدق بھرا...
غزل
(عبدالعزیز فطرت)
وہ پرسشِ حال کو آئیں گے بیمار کو یہ خوش فہمی ہے
جذبات کی بے رونق دنیا میں کتنی گہما گہمی ہے
اے گردشِ ساغر گردش دور فلک سے مجھ کو خوف نہیں
ایّام کے چکر سے ڈرنا ناشکری ہے نافہمی ہے
حوروں سے یہ جی بہلائے گا کوثر سے یہ جام اُڑائے گا
میں شیخ کو خوب سمجھتا ہوں - پرلے درجے کا...
لی لا اور مجنا
بلوچی داستان
بلوچی زبان میں یہ وہی عربی داستان ہے جو لیلٰی اور مجنوں کے نام سے مشہور ہے۔ ساری کی ساری نظم مقامی رنگ لئے ہوئے ہے۔ لیلا کو ایک بلوچی عورت میںتبدیل کر دیا گیا ہے۔ جو مامبور پہاڑی کے دامن میں رہتی ہے ۔۔ اس مقام کے فردوسی مناظر حیرت انگیز طور پر پیش کیئے گئے...
غزل
عنبرین حسیب عنبر
جز ترےکچھ بھی نہیں اور مقدر میرا
تو ہی ساحل ہے مرا، تو ہی مقدر میرا
تو نہیں ہے تو ادھوری سی ہے دنیا ساری
کوئی منظر مجھے لگتا نہیں منظر میرا
منقسم ہیں سبھی لمحوں میں مرے خال و خد
یوں مکمل نہیں ہوتا کبھی پیکر میرا
کس لئے مجھ سے ہوا جاتا ہے خائف دشمن
میرے ہمراہ...