اس سے فرق نہیں پڑتا۔ بھارت بھی ۱۹۹۱ میں زرمبادلہ ختم ہونے پر ایک بار آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا۔ اس لئے آئی ایم ایف پر الزام لگانا کہ وہ جان بوجھ کر سودی قرضے دیتا ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اگر تمام ممالک اپنی معیشت کو محتاط انداز میں چلائیں۔ آمدن اور اخراجات کا توازن برقرار رکھیں تو کبھی بھی آئی...