اگر ہم اپنے جوابات میں نہ لکھتے کہ ہم نے تُکے لگائے ہیں تو آج کہہ سکتے تھے کہ ہم کچھ "گیانی" واقع ہوئے ہیں لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ :)
ویسے نین بھائی کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم نے اپنے جوابات دے دیے ہیں ۔ سو ہم نے سوچا کہ شاید دو شرارتی لوگوں کی طرح دو شاعر بھی ایک ہی طرح سوچتے ہوں۔...
میں نہیں سمجھا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہیں ہیں ۔
اگر اس بابت مزید گفتگو کرنا چاہیں تو ذاتی پیغام میں آجائیے یا چاہیں تو نئی لڑی کھول لیں ورنہ یہاں ہم 'آف ٹاپک' ہو جائیں گے۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔!
شکر ہے آپ نے ریٹنگ نہیں دی۔ :)
ویسے یہاں ذکر میرا نہیں ہے بلکہ یہ تو افسانے کے راوی ہیں جو اتفاق سے "واحد متکلم" کے صیغے میں ہیں۔ :) :)
مفت ہوئے بدنام
محمد احمد
پہلی بار جب یہ بات میڈیا پر نشر ہوئی تو میں بھی دہل کر رہ گیا کہ اب نہ جانے کیا ہوگا ۔ مجھے تو یہ بھی خوف ہو گیا تھا کہ طفیل صاحب سارا معاملہ میرے ہی سر نہ تھوپ دیں ۔ اُن سے بعید بھی نہیں تھی بعد میں شاید وہ مجھ سے اکیلے میں معافی مانگ لیتے لیکن تب تک ہونی ہو چکی ہوتی۔...
خیبر پختونخواہ میں ترقیاتی کام کی خوشخبری ملتی تو ہے لیکن سب تحریکِ انصاف کے حمایتیوں سے ہی ملتی ہے کبھی کسی غیر جانبدار ذرائع سے نہیں ملتی۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں دوسروں کی خوبیوں کے اعتراف کی روایت بھی نہیں ہے۔
میڈیا کیا آزاد ہے۔
میڈیا اپنی خواہشوں کا غلام ہے۔
آج سے دو ماہ قبل کی کسی ایک خبر کو جیو اور اے آر وائی پر دیکھ لیں۔ کس طرح دونوں نے ایک ہی خبر کو دو الگ الگ انتہاؤں پر پہنچایا ہوا تھا۔ یعنی دو فریق ایک خبر پیش کرتے تھے اور اس طرح کرتے تھے کہ دونوں خبریں جھوٹی لگنے لگتی تھیں۔
ٹھیک ہے! لیکن صاف شفاف الیکشن کی راہ میں بھی تو یہی لوگ سب سے بڑی دیوار ہیں۔
دوسری طرف تحریکِ انصاف نے بھی کارکردگی کو چھوڑ کر احتجاج کا راستہ چنا جو اتنا موثر ثابت نہیں ہوا۔ اگر خیبر پختونخواہ کو مثال بنا دیا جاتا تو تحریک انصاف کو کسی اور مہم جوئی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔