پھر آنے لگیں شہرِ محبت کی ہوائیں
پھر پیشِ نظر ہو گئیں جنت کی فضائیں
اے قافلے والو ، کہیں وہ گنبدِ خضری
پھر آئے نظر ہم کو کہ تم کو بھی دکھائیں
ہاتھ آئے اگر خاک ترے نقش قدم کی
سر پر کبھی رکھیں ، کبھی آنکھوں سے لگائیں
نظارہِ فروزی کی عجب شان ہے پیدا
یہ شکل و شمائل یہ عبائیں یہ قبائیں
کرتے ہیں...