کچھ اپنی غلطیوں کی ہی اصلاح۔ اب ملاحظہ کیجیے۔
اپنی نظروں سے گرگیا کیونکر
وہی دِل سے اُتر گیا کیونکر
موت سے جو کبھی نہیں ہارا
زندگی سے وہ ڈر گیا کیونکر
ہر کسی کو سمیٹتا جو رہا
آج خود ہی بکھر گیا کیونکر
زندگی بانٹتا رہا اب تک
وہ مسیحا ہی مرگیا کیونکر
دوستوں نے ڈبو دیا تھا جسے
پستیوں سے اُبھر گیا...