نتائج تلاش

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل: مجھے چاہتا کوئی اور تھا، یہ میاں مرا کوئی اور ہے:: از:: محمد خلیل الرحمٰن

    متلاشی بھائی! آپ ہی نشان دہی کر دیجیے اُن غلطیوں کی۔
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل: مجھے چاہتا کوئی اور تھا، یہ میاں مرا کوئی اور ہے:: از:: محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل محمد خلیل الرحمٰن مجھے چاہتا کوئی اور تھا، یہ میاں مرا کوئی اور ہے میں پسند ہوں کسی اور کی، مجھے لے اُڑا کوئی اور ہے کسی بد نصیب کو پھانس کر ، غزل ایک ہم بھی سنا گئے جو نکل لیا کوئی اور تھا، وہ جو پھنس گیا کوئی اور ہے یہ عجیب لے ، یہ عجیب دھُن ، جو ہمارے بس میں نہیں رہی مرا ہم...
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    سو باتوں کی ایک بات

    بہت عمدہ۔ داد قبول کیجیے بٹیا!
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    نظم ۔۔۔ سرگوشیاں ، از : منصور آفاق ؔ

    واہ منصور بھائی! شاعر کا فطرت سے ربط بہت خوب ہے۔ بہت داد قبول ہو۔ ایک مصرع میں شاید ٹائیپو ہے۔ کہکشاں جب تم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی ( ہوئیں؟)
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    شعر لکھیں اور اس کی مزاحیہ تشریح لکھیں

    (۱)ہوکر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں (۲) ہزار رہزنِ امیدوار راہ میں ہے مشکل الفاظ کے معنی: راہزن۔ زنِ بازاری (۱) اس مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ جب ہم غلاموں کی طرح زنِ بازاری کے پاؤں دباتے ہیں تو ہمیں بڑا لطف آتا ہے۔ (۲) اس مصرع میں شاعر اطلاع دے رہا ہے کہ اس راہ میں ایک ریڈ لائٹ ایریا پڑتا...
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    ایک پکنک کی روداد:فقط ایک مچھلی:از: محمد خلیل الرحمٰن

    لوگ بھی کیا خوب ہوتے ہیں، ایک سادہ سی نظم میں آئینے کی طرح ، اپنی ساری دلی خواہشات پڑھ لیتے ہیں۔:applause:
  7. محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل:نابلد وہ ہوا گرامر سے::از:: محمد خلیل الرحمٰن

    وارث صاحب جزاک اللہ۔ دل بڑھانے پر شکریہ قبول کیجیے۔
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل:نابلد وہ ہوا گرامر سے::از:: محمد خلیل الرحمٰن

    جزاک اللہ جناب استادِ محترم۔ پسندیدگی کا شکریہ قبول کیجیے۔
  9. محمد خلیل الرحمٰن

    ڈرامہ: قرطبہ کا قاضی:از: سید امتیاز علی تاج

    عبداللہ: حضور ایسا کوئی بھی نہیں ہے جو آپ کے فتوے کی تعمیل کرسکے۔ ویسے میرے سوا قرطبہ کے سارے مرد گھر کے باہر کھڑے ہیں۔ قاضی: ( جلدی سے، جیسے یقین نہیں آتا) قرطبہ کے سارے مرد تیرے سوا؟ یہ معنی کہ تعمیل کے لیے تو آمادہ ہے؟ عبداللہ: نہیں حضور میں تعمیل نہیں کرسکتا۔ نہ کوئی اور شخص جسے میں جانتا...
  10. محمد خلیل الرحمٰن

    وہ مسیحا مر گیا کیونکر

    کچھ اپنی غلطیوں کی ہی اصلاح۔ اب ملاحظہ کیجیے۔ اپنی نظروں سے گرگیا کیونکر وہی دِل سے اُتر گیا کیونکر موت سے جو کبھی نہیں ہارا زندگی سے وہ ڈر گیا کیونکر ہر کسی کو سمیٹتا جو رہا آج خود ہی بکھر گیا کیونکر زندگی بانٹتا رہا اب تک وہ مسیحا ہی مرگیا کیونکر دوستوں نے ڈبو دیا تھا جسے پستیوں سے اُبھر گیا...
  11. محمد خلیل الرحمٰن

    وہ مسیحا مر گیا کیونکر

    کچھ کوشش کی ہے اپنی نظروں سے گرگیا کیونکر وہی دِل سے اُتر گیا کیونکر موت سے جو کبھی نہیں تھا ڈرا زندگی سے وہ ڈر گیا کیونکر ہر کسی کو سمیٹتا جو رہا آج خود ہی بکھر گیا کیونکر زندگی بانٹتا تھا جو اب تک وہ مسیحا ہی مرگیا کیونکر دوستوں نے ڈبو دیا تھا جسے پستیوں سے اُبھر گیا کیونکر کیسی وحشت نے آلیا...
  12. محمد خلیل الرحمٰن

    برائے اصللاح : یہ غزل ہے کہ آئینہ مقابل میرے: از: زحال مرزا ؔ

    زحال مرزا بھائی! اساتذہ کی آمد سے پہلے ہم اور آپ اک کوشش مل کر کرلیں؟ مندرجہ ذیل کو ملاحظہ فرمائیے یہ غزل ہے کہ ہے آئینہ مقابلِ میرے کیسے بھولوں تجھے اے جاگتے قاتِل میرے کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے مجھ سے یوں فراموش نہ کرمجھ کو اے غافِل میرے تو سکونِ دل و جاں تو ہی تسلی ہے مری تو ہی دنیا ہے، تو...
  13. محمد خلیل الرحمٰن

    فسانہ آزاد: اباجان کی داستانِ حیات

    باب نہم: پھر جس نے اللہ اور اُس کے رسول کے لیے ہجرت کی محمد خلیل الر حمٰن اباجان پاکستان پہنچ گئے اور یہاں پر انھوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ زادِ سفر جیل سے ملا ہوا ایک کمبل تھا ۔ بیوی بچے اور ماں باپ بھائی بہن وغیرہ ابھی ہندوستان ہی میں تھے، لیکن راستے کھل گئے تھے اور لوگ باقاعدہ راستوں...
  14. محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل:نابلد وہ ہوا گرامر سے::از:: محمد خلیل الرحمٰن

    سعود ابن سعید بھائی ۔ برائے مہربانی ان دونوں غلطیوں کی تدوین فرمادیجیے۔جزاک اللہ
  15. محمد خلیل الرحمٰن

    غزل: زیست کی مشکلات کیا جانے::از: محمد خلیل الرحمٰن

    جزاک اللہ جناب۔ پسندیدگی کا شکریہ
  16. محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل:نابلد وہ ہوا گرامر سے::از:: محمد خلیل الرحمٰن

    چند الفاظ سن لیے ہیں کہیں ٹائیپو ابن سعیدسعود بھائی ٹائپو!
  17. محمد خلیل الرحمٰن

    نمکین غزل:نابلد وہ ہوا گرامر سے::از:: محمد خلیل الرحمٰن

    غزل محمد خلیل الرحمٰن نابلد وہ ہوا گرامر سے حسن کے مشتقات کیا جانے ۔۔(ق)۔۔ ٹیوشن کی اُسے ضرورت ہے عشق کی وہ لغات کیا جانے چند الفاظ سن لیے ہیں کہیں وہ فیروز اللغات کیا جانے اُس پہ سہرا سجا ، بنا دولھا وہ دلہن کی برات کیا جانے زندگی جس کی کالی رات ہوئی وہ حسیں چاند رات کیا جانے ڈاروِن...
Top