نمکین غزل:نابلد وہ ہوا گرامر سے::از:: محمد خلیل الرحمٰن

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
نابلد وہ ہوا گرامر سے
حسن کے مشتقات کیا جانے
۔۔(ق)۔۔
ٹیوشن کی اُسے ضرورت ہے
عشق کی وہ لغات کیا جانے
چند الفاظ سن لیے ہیں کہیں​
وہ فیروز اللغات کیا جانے
اُس پہ سہرا سجا ، بنا دولھا
وہ دلہن کی برات کیا جانے
زندگی جس کی کالی رات ہوئی
وہ حسیں چاند رات کیا جانے
ڈاروِن اپنی ذات میں ڈوبا
اِرتِقا کے نکات کیا جانے
۔۔(ق)۔۔
خود ہی انساں سے بن گیا بندر
ذات کیا ہے صفات کیا جانے
 
ٹیوشن کی اُسے ضرورت ہے

چند الفاظ اُس نے سُن لیے ہیں کہیں
ان مصرعوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ پہلے والا تو شاید چل جائے لیکن دوسرا والا نہیں چلے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ کہیں:
بڑا شاعر بنا پھرے ہے خلیل
وزن اور فاعلات کیا جانے
 

الف عین

لائبریرین
خوب۔ تو یوں کہو کہ یہ دو غزلہ کر دیا ہے۔ دو آتشہ کہا جائے اسے؟
سعود در اصل ’ٹی ؤ شن‘ نظم کیا ہے خلیل نے، اور اگر فیروز الٌغات کی املا بھی وزن کے اعتبار سے ’فِروز اللغات‘ لکھا جائے تو مزاح میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
 
خوب۔ تو یوں کہو کہ یہ دو غزلہ کر دیا ہے۔ دو آتشہ کہا جائے اسے؟
سعود در اصل ’ٹی ؤ شن‘ نظم کیا ہے خلیل نے، اور اگر فیروز الٌغات کی املا بھی وزن کے اعتبار سے ’فِروز اللغات‘ لکھا جائے تو مزاح میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
جزاک اللہ جناب استادِ محترم۔ پسندیدگی کا شکریہ قبول کیجیے۔
 
Top