چل رہا ہے قلم زمانے کا
تم تو عنوان تھے فسانے کا
ہم نے جانا کہ ہم میں بھی کچھ ہے
شکریہ صبر آزمانے کا
آ بسے ہو دلوں میں دنیا کے
گھر نہیں مل سکا ٹھکانے کا
پہلے تھی آرزو خزانے کی
پھر پتا مل گیا خزانے کا
نہ کر اتنا حسد نگاروں سے
تو خدا ہے نگارخانے کا
سننے والا نہ تھا کوئی بھی آج
آج لطف آ گیا...