رہی ناگفتہ مرے دل میں داستاں میری
نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
برنگ صورت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا
خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس
ہزار جائے گی طبع بدگماں میری
وہ نقش پائے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں
نہ کچھ خبر ہے نہ سدها ہے گی رہرواں میری
شب اس کے کوچے...