اچھی بات ہے۔
ہماری مراد یہ نہیں کہ سب تج کر یہاں آ جائیں۔ بلکہ جب فرصت ہو آ جایا کریں۔ :)
بقول غالب:
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
:)
فی الحال 'کسی' کا تعارف یہ ہے کہ ہمارے ایک آفس کولیگ نے فیس بک پر یہ لطیفہ تصویری شکل میں دیکھا اور ہمیں سنا دیا۔ ہم چونکہ تصویر کے مقابلے میں تحریر سے زیادہ قریب ہیں سو کچھ اپنے انداز میں لکھ کر یہاں پوسٹ کر دیا۔ :) :) :)
سب کے سر میں جنوں سمایا تھا
اک دوانے پہ سنگ اٹھایا تھا
اب مجھے یاد ہی نہیں میں نے
پھول زلفوں میں کیوں سجایا تھا
جانے وہ کس نگر میں ہوگا اب
مدتوں پہلے فون آیا تھا
۔۔۔۔۔۔
واہ !
بہت اچھی غزل ہے۔
داد حاضرِ خدمت ہے۔ :)