-غزل-
سڑکوں پر اِک سیلِ بلا تھا لوگوں کا
میں تنہا تھا، اِس میں کیا تھا لوگوں کا
دنیا تھی بے فیض رِفاقت کی بستی
جیون کیا تھا ،اِک صحرا تھا لوگوں کا
سود و زیاں کے مشکیزے پر لڑتے تھے
دل کا دریا سوکھ گیا تھا لوگوں کا
میں پہنچا تو میرا نام فضا میں تھا
ہنستے ہنستے رنگ اُڑا تھا لوگوں کا
نفرت کی...
اپنے شعر کی تشریح کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ اگر شاعر نثر ہی میں سب کچھ کہنے کا اہل ہو تو بھلا شعر ہی کیوں کہے۔ :) تاہم آسانی کے لئے عرض کروں کہ اگر مصرعے کے بجائے پورا شعر پڑھا جائے تو مفہوم بعید از قیاس نہیں ہے۔