نتائج تلاش

  1. کاشفی

    حضرت ِ اقبال کی زمین میں میری اک غزل

    بہت ہی عمدہ غزل ہے۔۔ بہت خوب!
  2. کاشفی

    یہ ہے قادیانی مذہب

    شمشاد بھائی اور فاروق درویش صاحب جزاک اللہ۔
  3. کاشفی

    ہجر میں یوں ہی جان کھوتے ہیں - محشر لکھنوی

    شکریہ بیحد۔ موضوع بھی تبدیل کردیں۔ شکریہ!
  4. کاشفی

    ہجر میں یوں ہی جان کھوتے ہیں - محشر لکھنوی

    غزل (محشر لکھنوی) ہجر میں یوں ہی جان کھوتے ہیں روتے ہیں اور خوب روتے ہیں میں سمجھتا ہوں غم کی داد ملی جب وہ رونے پہ شاد ہوتے ہیں بزم میں آئے تھے نہ بیٹھیں گے کیوں خفا اتنا آپ ہوتے ہیں ناصح اپنی آنکھیں دل اپنا کچھ تو ہم سمجھتے ہیں جو روتے ہیں یاد جاناں میں بیخودی سی ہے ہم نہ ہشیار ہیں...
  5. کاشفی

    داغ تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو - داغ دہلوی

    یہ غزل میں پہلے پیش کر چکا ہوں۔۔۔ جون 18, 2009 کو۔
  6. کاشفی

    نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔ کاشف حسین غائر

    شکریہ م-م مغل بھائی۔
  7. کاشفی

    نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔ کاشف حسین غائر

    مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں اگر کاشف حسین غائر کا مزید کلام پیش کردیں تو بہتر ہے۔ کچھ پڑھنے کو مل جائے گا۔۔ شکریہ۔
  8. کاشفی

    مظفر وارثی لبِ خاموش سے اظہارِ تمنا چاہیں ۔ مظفر وارثی

    بہت ہی عمدہ! شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔
  9. کاشفی

    جوش بہار آنے لگی - جوش ملیح آبادی

    شکریہ جناب فاتح صاحب!
  10. کاشفی

    جوش بہار آنے لگی - جوش ملیح آبادی

    شکریہ جناب محمد وارث صاحب!
  11. کاشفی

    کیا ملال اب کے دھریں سینۂ پُر خار کے پاس ۔ فاتح الدین بشیرؔ

    بہت ہی خوب جناب فاتح الدین بشیر صاحب! بہت ہی عمدہ غزل پیش کی ہے جناب نے۔۔ بہت عمدہ!
  12. کاشفی

    نئی محفل فورم پر خوش آمدید

    السلام و علیکم، ابن ِ سعید صاحب! پرانے فورم کا لنک ارسال کرنے کے لیئے بیحد شکریہ۔۔ خوش رہیں۔
  13. کاشفی

    جوش اے مُرتضیٰ! - جوش ملیح آبادی

    من كنت مولاه فهذا علي مولاه اے مُرتضیٰ! (جوش ملیح آبادی) اے مُرتضیٰ! مدینہ ءعلم خدا کے باب، اسرارِ حق ہیں، تیری نگاہوں پہ بے نقاب اے تیری چشمِ فیض سے اسلام کامیاب ہر سانس ہے مکارمِ اخلاق کا شباب نقشِ سجود میں ، وہ تیرے سوز و ساز ہے فرشِ حرم کو، جس کی تجلّی پہ ناز ہے اے نورسرمدی سے ، درخشاں...
  14. کاشفی

    جوش کر چکا سَیر، اصل مرکز پر اب آنا چاہئے - جوش ملیح آبادی

    سلام (جوش ملیح آبادی) کر چکا سَیر، اصل مرکز پر اب آنا چاہئے اِس زمیں پر اک نئی بستی بسانا چاہئے پڑ چکے ہیں سینکڑوں روحِ شہادت پر حجاب مومِنو! اب ان حجابوں کو اُٹھانا چاہئے استعاروں میں بیاں کرنے کے دن باقی نہیں داستاں ، اب صاف لفظوں میں سُنانا چاہئے یہ جھجک اچھی نہیں اے سوگوارانِ حسین! باندھ...
Top