زندہ رہنا ہے تو میرِکارواں بن کر رہو
اس زمیں کی پستیوں میں آسماں بن کر رہو
دورِ حق ہو تو نسیمِ بوستاں بن کر رہو
عہدِ باطل ہو تو تیغِ بے اماں بن کر رہو
دوستوں کے پاس آؤ نور پھیلاتے ہوئے
دشمنوں کی صف سے گزرو آگ برساتے ہوئے
دورِ محکومی میں راحت کُفر، عشرت ، ہے حرام
مہ وَشوں کی چاہ، ساقی کی محبت...