اب یہ تو کوئی نہیں کہہ رہا نا کہ سرے سے علاج ہی نہ کیا جائے
لیکن اس قسم کی کیفیات میں اطمینانِ قلب و نفس کی اشد ضرورت ہوتی ہے
اور خود اللہ پاک قرآن پاک میں اپنے ذکر کو دل کے اطمینان کا بہترین ذریعہ قرار دیتا ہے
میں عرض کر رہا ہوں کہ آپ مجھ پر یا کسی اور پر اعتبار کرتے ہی کیوں ہیں ایک منصف کا کام دونوں طرف کے دلائل کا بخوبی جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے اگر تو آپ خود کو کسی دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں تو دوسری بات ہے ورنہ جس نزدیکی سے آپ نے یونیورسٹیوں کو دیکھا ہے کم سے کم اتنا حق تو اُسی لیول کے مدارس...
میں نے آج تک ایک بھی آدمی ایسا نہیں دیکھا چاہے وہ کسی ڈاکٹر کا ستایا ہوا کیوں نہ ہو اور وہ اپنی جسمانی تکلیف کے وقت ڈاکٹر کے پاس نہ جانے کا سوچے بھی، جبکہ ایسے کئی لوگ دیکھے جو کسی مولوی سے دھوکہ کھائے بغیر بھی تہیہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں چاہے روحانی تکلیف کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو کسی مولوی کے پاس نہ...