31۔ایک نئی پیروڈی حاضر ہے
غزل
محمد خلیل الرحمٰن
کِس دِن نہ اُن نے ہوش ہمارے خطا کیے
کِس دِن ہماری بات سکوں سے سُنا کیے
ٹھانی ہے اُس نے قرض نہ واپس کرے گا وہ
حالانکہ روز ہم بھی تقاضا کیا کیے
مقدور ہوتو چور سے پوچھوں کہ اے لعین
’’تو نے وہ گنج ھائے گراں مایہ کیا کیے‘‘
ضد کی ہے اور بات، مگر...