ایک جاگیردار اپنے چیلوں سے۰۰۰۰
محمد خلیل الرحمٰن
(حضرت علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
اُٹّھو ! مری جاگیر کو اِک کھیت بنادو
اِن کچے مکانوں پہ ذرا ہل ہی چلادو
گرماؤ ذرا میرا لہو کھیل سے اپنے
سرکار کے کارندوں کو آپس میں لڑادو
’’سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ‘‘
ہاری جو مجھے ووٹ نہ دے اُس کو مِٹا دو...