'بہی رہے تھے' کی املا ' بہ رہیں تھے' کی گیی تھی، اس شک کو یقین بدلنے کے لیے سوالیہ نشان لگایا تھا مگر ابھی اس شعر پر پھر غور کیا تو لگا کہ دونوں مصرعے 'یہ' سے شروع ہو رہے ہیں، یہ بھی خامی ہے ۔ پہلے مصرع کو 'جو' سے شروع کرنا بہتر ہو گا
وفا جو وعدہ فراموش کو سکھانی تھی
پر پرانی گرہ ہی بہتر تھی۔...