نتائج تلاش

  1. الف عین

    غم نہیں غیر کی ریائی کا ۔۔ غزل از محمد ذیشان نصر

    لغت تو میں نے اب دیکھی! اس وقت نہ جانے کیوں ریائی اور بے ریائی میں کنفیوژن ہو گیا۔ ریائی متروک تو نہیں ہوا لیکن واقعی مستعمل نہیں رہا۔
  2. الف عین

    برائے اصلاح -جب یار ہو پہلو میں یہ جان نکل جائے

    پھر انسان... وزن میں نہیں
  3. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    شاعرانِ محفل کے نمائندے کے طور پر جواب دے دوں... وعلیکم السلام
  4. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    ڈھیر سی دعائیں میری طرف سے بھی
  5. الف عین

    الحمد اللہ اچھا ہوں

    الحمد اللہ اچھا ہوں
  6. الف عین

    غزل برائے اصلاح - مشکل ہے وہی جس کو آسان سمجھتا تھا

    ہر اک کو میں اب تک ہی انسان سمجھتا تھا مشکل ہے وہی جس کو آسان سمجھتا تھا ------------------------ ہی بھرتی کا ہے ہر ایک کو میں اب تک... بہتر ہو گا اس شوخ کو چھو کر تھی وہ بادِ صبا آئی میں دور کھڑا جس کو طوفان سمجھتا تھا ------------------------ یہ شوخی ہے کہ باد صبا طوفان بن گئی؟ مفہوم کے...
  7. الف عین

    برائے اصلاح -جب یار ہو پہلو میں یہ جان نکل جائے

    پہلے شعر کا تو قافیہ ہی بے معنی ہے دوسرا شعر درست ہے تم اپنا مجھے کہہ کر اک بار پکارو ناں بے نام سے اس دل کا ارمان نکل جائے .... ناں کوئی لفظ نہیں، محض 'نا' درست ہے تاکید کے لیے۔ اس کے بعد '!' ضرور لگائیں کیا چیز نہیں چکھنی پہلے ہی بتائیے گا جنت سے کہیں پھر نا انسان نکل جائے بتائیے کا الف...
  8. الف عین

    تمہارے ساتھ بیتے دن بھلانا ہے بہت مشکل---برائے اصلاح

    مرے دل میں جو ہوتا ہے سرِ محفل وہ کہتا ہوں اگر کوئی مجھے چاہے جھکانا ہے بہت مشکل ------------ جو دل میں ہوتا ہے' کی جگہ یہ کہنا بہتر ہے کہ سچی بات برملا کہتا ہوں، لگی لپٹی نہیں رکھتا جو سچی بات ہوتی ہے سر محفل.... بہتر ہو شاید جھکانا کے بعد کوما ضروری ہے محبّت جن کی سچی ہو جو کہتے ہیں وہ کرتے...
  9. الف عین

    غم نہیں غیر کی ریائی کا ۔۔ غزل از محمد ذیشان نصر

    موت بس ایک استعارہ ہے قیدِ تن سے تری رہائی کا کیا روح سے خطاب ہے؟
  10. الف عین

    غم نہیں غیر کی ریائی کا ۔۔ غزل از محمد ذیشان نصر

    غم نہیں غیر کی ریائی کا دکھ ہے اپنوں کی بے وفائی کا ... ریائی؟ عموماً بے ریائی تو استعمال کیا جاتا ہے، ریائی ایمان داری، دل کی صفائی وغیرہ کے معنوں میں ممکن ہے لیکن یہاں بھی محل بے ریائی کا ہی ہے اس کی بے ریائی... کیا جا سکتا ہے عرشِ دل میں بسا لیا ان کو ڈر نہیں اب مجھے جدائی کا ... عرش پر...
  11. الف عین

    اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں

    اب درست ہو گئی ہے غزل، مقطع میں ابہام ضرور ہے مگر قبول کیا جا سکتا ہے
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    تمہارا نکتہ درست ہے اور یہ تبدیلی بہتر ہے
  13. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    خدا کرے کہ پہاڑوں کے حسین نظاروں میں ہی نہ کھو جائے،۔ ثمرین کو چائے بنائا بھی یاد رہے
  14. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ضمیر کی آواز کے مطابق ہی قلم اٹھاتا تھا منٹو
  15. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    'بہی رہے تھے' کی املا ' بہ رہیں تھے' کی گیی تھی، اس شک کو یقین بدلنے کے لیے سوالیہ نشان لگایا تھا مگر ابھی اس شعر پر پھر غور کیا تو لگا کہ دونوں مصرعے 'یہ' سے شروع ہو رہے ہیں، یہ بھی خامی ہے ۔ پہلے مصرع کو 'جو' سے شروع کرنا بہتر ہو گا وفا جو وعدہ فراموش کو سکھانی تھی پر پرانی گرہ ہی بہتر تھی۔...
  16. الف عین

    اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں

    مَیں ہجر میں سسکتی ہوئی، شام کیا کروں خالی ہے اب جو مے سے، مَیں وہ جام کیا کروں ... دو لختی کی کیفیت ہے، دوسرا مصرع انیس جان کے مشورے مطابق کیا جا سکتا ہے لیکن خالی ہے جو شراب سے، وہ جام کیا کروں بہتر ہو گا۔ پہلے مصرع میں کاما کی ضرورت نہیں بستر کی ہر شکن میں ہیں کانٹے جدائی کے بے چینیوں کی...
  17. الف عین

    برائے اصلاح - زندگی موت کی سرحد پہ بکھر جاتی ہے

    یوں کہو تو ہجر کی دھوپ میں مرجھا سی گئی ہے جو کلی ؟؟؟
  18. الف عین

    قطعہ برائے اصلاح

    ہاں یہ اس لحاظ سے بہتر تھا کہ معلوم ہو گیا کہ گومگو کی حالت یہ سوچ کر پیدا ہوئی تھی کہ عشق کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ لیکن یہ یقین کیوں ہے کہ محبوب کو تباہ و برباد کر دیا جائے گا؟
  19. الف عین

    برائے اصلاح - زندگی موت کی سرحد پہ بکھر جاتی ہے

    ہجر کی دھوپ کی شدت سے جو مرجھاتی ہے وہ کلی وصل کی شب پھر سے نکھر جاتی ہے غلط قافیے کا مطلع لگتا ہے مرجھا گئی تھی بہتر ہو گا پرانی مے والا پرانا شعر ہی بہتر لگتا ہے
  20. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    بنائی جا سکتی ہے ایسی ترکیب
Top