چشم-کرم کا ہی تو یہ سارا کمال ہے
حسان ہے کہیں تو کہیں پر بلال ہے
درست تو ہے لیکن روانی میں اچھا نہیں پہلا مصرع
میرے نبی کی چشم کرم کا کمال ہے
رواں ہو گا
ان کے بنا وجود کسی کا محال ہے
ان سے ہی کائنات کی دھڑکن بحال ہے
.. یہ مطلع قافیہ میں غلط ہو گیا، ایطا ہے۔ مطلع کی بجائے عام شعر بنا دیں الفاظ...