نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    'وہ ہی' میں تنافر ہے، جب 'وہی' آ سکتا ہے تو اسے ہی استعمال کیا جائے فاعلاتن فعلاتن میں بدلا جا سکتا ہے اس بحر میں
  2. الف عین

    آیا ہے یار میرا ، دل کو مرے لبھانے---برائے اصلاح

    چل سکتا ہے ویسے غزل بھی کوئی خاص نہیں جو زیادہ محنت کی جائے
  3. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    سمجھ سے کام لیں تو فضول خرچی سے بچا جا سکتا ہے، مثلاً دعوتوں میں محض بریانی یا ایک سالن روٹی اور ایک میٹھا،
  4. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    ٹکٹ لینا پڑتا ہے نہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، مفت کا سودا ہے توبہ استغفار
  5. الف عین

    تری اے روٹھنے والے وفا کو یاد کرتا ہوں----برائے اصلاح

    مزا نہیں آیا ارشد صاحب کوئی شعر ایسا نہیں جسے قبول کیا جا سکے، محض تک بندی ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے ہی کہہ رہا ہوں ۔ عمر کا تلفظ م پر جزم کے ساتھ درست ہے، مفتوح نہیں جیسا مقطع میں باندھا ہے اسے مشق کے لیے سمجھیں، مزید محنت نہ کی جائے
  6. الف عین

    آیا ہے یار میرا ، دل کو مرے لبھانے---برائے اصلاح

    پہلے شعر میں بات اب بھی وہی ہے۔ آپ پہلے میں ایک بات کہہ رہے ہیں جو آپ کو معلوم ہے کہ وہ دل لبھانے آیا ہے، پھر دوسرے مصرعے میں اس کی نفی کیوں؟ باقی ٹھیک ہے
  7. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    پروردگار کا جتنا شکر کریں، کم ہے، مزید رحمتوں کی دعا کے علاوہ موجودہ نعمتوں کا شکر بھی لازم ہے
  8. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    طور بنا لیا ہے لوگوں نے کم از کم یہاں کہ شادی کی دعوتوں میں جتنی فضول خرچی کی جائے، بہتر ہے
  9. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    درست، اس طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا
  10. الف عین

    غزل براٗٗئے اصلاح

    یہ کو دو حرفی باندھا جا سکتا ہے، یہاں واقعی 'یہ جھنجھٹ' 'پر جھنجھٹ' سے بہتر ہے
  11. الف عین

    آیا ہے یار میرا ، دل کو مرے لبھانے---برائے اصلاح

    آیا ہے یار میرا ، دل کو مرے لبھانے یہ بھی پتہ نہیں ہے ، آیا ہو دل جلانے دو لخت بھی ہے 'شاید' کے بغیر دوسرا مصرع بے ربط ہو جاتا ہے۔ مفہوم میں بھی یہ کہا جائے کہ معلوم نہیں کہ وہ دل لبھانے آیا ہے یا دل جلانے؟ تو بات بن سکتی ہے پھر رُلانے میں تنافر ہے بھولا نہیں کبھی بھی ، دن تھے بڑے سہانے...
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    عظیم سے متفق ہوں، مزید یہ کہ تھا تقاضا یہ ہمارا ترے پاؤں میں رہیں تُو نے دھتکار دیا پھر بھی صدا دیتے ہیں پاؤں واحد میں رہنا محاورہ نہیں، پیروں بھی مناسب نہیں، ہاں، قدموں کیا جا سکتا ہے
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    یہی تو میرا مطلب تھا!
  14. الف عین

    غزل براٗٗئے اصلاح

    اچھی غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں ماشاءاللہ
  15. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    مجھے بھی کسی چیز کا ضائع ہونا پسند
  16. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    گرمی اب ختم ہی ہو گئی تقریباً، اب تو پنکھے کی ہوا میں سردی لگنے لگی ہے
  17. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    درست لگ رہی ہے غزل ایک دو خامیوں کو چھوڑ کر. ۔ لیکن نہ پوچھیے سے پہلے کوما لگا دیں ہرجگہ میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے .. ہر گھڑی بہتر ہو گا، بلکہ گھڑی کے بچانے میں بکھر رہا ہوں جو مستقل، مرا حالِ زار نہ پوچھیے بہتر ہے کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں...
  18. الف عین

    میری خوشی کو آپ کبھی جان جایئے--برائے اصلاح

    یہ ہوئی نا بات ارشد صاحب، اب آپ خود ہی بہتر شعر کہنے لگے، کئی اشعار نئے ہیں لیکن کوئی خامی نہیں ماشاء اللہ، بس اس مصرع کو دیکھیں الفت مری کو دل میں جگہ دیجئے کبھی اسے الفت کو میری، دل... باقی سب درست ہے
  19. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    درست ہے یہ شعر
  20. الف عین

    برائے اصلاح - کبھی جب ہجر کے لمحوں میں سورج جگمگائے گا

    ہمیں اس دم شبِ ہجراں کا اندھیرا ستائے گا کو یوں کر سکتے ہو اندھیرا شام ہجراں کا ہمیں جس دم ستائے گا باقی اشعار درست ہیں
Top