درست لگ رہی ہے غزل ایک دو خامیوں کو چھوڑ کر.
۔ لیکن نہ پوچھیے سے پہلے کوما لگا دیں ہرجگہ
میں بکھر رہا ہوں گھڑی گھڑی مرا حالِ زار نہ پوچھیے
.. ہر گھڑی بہتر ہو گا، بلکہ گھڑی کے بچانے
میں بکھر رہا ہوں جو مستقل، مرا حالِ زار نہ پوچھیے
بہتر ہے
کبھی مست مست وہ اٹکھیلیاں تمھیں سوجھتی تھیں پہیلیاں...