رات ایک محفل میں عزم صاحب کے ایک دوست نے ’’ کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوقِ شکر خند‘‘ کو ’’کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوقِ شکر قند ‘‘ کردیا خاصی بحث رہی مگر وہ صاحب ماننے کو تیار نہ تھے بہر کیف انہیں ثبوت دیا تو معلوم ہو ا کہ کلام یہاں نہیں موجود سو حاضر ہے ۔
یارب یہ جہانِ گزراں خوب ہے لیکن...
وا ہ صاحب واہ ، بہت خوب جناب ، کیا ہی عمدہ غزل ہے ، بندہ ناچیز کی طرف سے ہدیہ داد قبول کیجے ۔( ایک مصرعے میں گزری کو گذری لکھ دیا گیا ہے ) اسے درست کرلیں۔ اور اسی مصرعے میں ’’ ہی ‘‘ کھل رہا ہے ، مقطع باقی غزل کی نسبت کمزور لگ رہا ہے ، امید ہے ناگوار نہ گزرے گا۔ والسلام
کل کوئی پی پی پی بنائے پھر ن لیگ پھر ق لیگ، ۔۔۔۔ بھئی یہ اردو کی محفل ہے ،
اگر اسے رکھا گیا تو میں تو دوبارہ نہیں آنے کا، دنیا بھر کے لوگ یہاں ہوتے ہیں۔
کل کسی نے راشٹریہ رائفل بنالی ، کسی نے تامل، کسی نے آئی ایس آئی بنا لی تو۔۔؟؟