غزل
پہلا سا حال پہلی سی وحشت نہیں رہی
شاید کہ تیرے ہجر کی عادت نہیں رہی
شہروں میں ایک شہر مرے رتجگوں کا شہر
کوچے تو کیا دلوں ہی میں وسعت نہیں رہی
لوگوں میں میرے لوگ، وہ دلداریوں کے لوگ
بچھڑے تو دور دور رقابت نہیں رہی
شاموں میں ایک شام وہ آوارگی کی شام
اب نیم وا دریچوں کی حسرت نہیں رہی
راتوں...