یوں کہیے کہ پڑھائی نے بوڑھا کر دیا ہے ورنہ ہمارے بھائی تو بڑے ینگ دل واقعے ہوئے ہیں۔ :)
اب کسی دن دونوں جامعات کو جمع کر کے شاپر میں ڈال لیں اور کوچہء شاپراں میں چھوڑ آئیں تاکہ جان چھوٹے۔ :) :)
اب جس دور میں "ک" کی شناخت کتے والے اور قینچی والے سے ہونے لگ جائے اس دور میں کوچہء آلکساں کے باسیوں سے جناب اس نکتہ رسی کی اُمید کیوں رکھتے ہیں کہ نقطہ در نقطہ احتیاط فرمائیں گے۔ :):D
ہاہاہا۔۔۔!
دیکھیے ہم آپ سے اوپر والی جماعت میں ہوتے ہیں سو ہمیں استاد نہ کہیے۔ :)
اُستاد یہاں ماشاءاللہ کئی ایک ہیں اور اس قابل ہیں کہ اُستاد کہلائیں، رفتہ رفتہ آپ ان سب سے واقف ہو جائیں گے۔
یہ کیا کم ہے۔
مزید:
یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کس نے کس پوسٹ پر کیا ریٹنگ دی۔
ذاتی مکالمے (اپنے :)) پڑھ سکتے ہیں اور بھیج سکتے ہیں۔
اور سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ اختلاف بھی کر سکتے ہیں اگر جواب آں غزل سے نمٹنے کا حوصلہ ہو تو۔ :)
میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے بلکہ مطلب یہ بنتا ہے کہ صرف دکھاوے پر نہ جا بلکہ کچھ دل سے کر۔
یہاں شاعر کہتا ہے کہ دل کی زمین پر اخلاص کے پھول اُگا۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں۔
ویسے ممتاز گورمانی کہنہ مشق شاعر ہیں۔
راشد اشرف بھائی کا انتظار کر لیتے ہیں۔
ہم تو انہی گنے چنے اداروں کو جانتے ہیں جن کا جناب نور صاحب نے نام لیا ہے۔
یوں بھی ہماری زیادہ تر دلچسپی پرانی کتابوں میں ہوتی ہے سو گلشن میں بیت المکرم مسجد کے سامنے موجود بازار کا چکر لگا لیتے ہیں کبھی کبھی۔ :)