بہت بہت شکریہ وارث صاحب ، کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے مجھے وقت دیا، اور معذرت اس بات کی کہ میں آپ کی مصروفیات میں مخل ہوا ، ترجمہ پیش کر کے آپ نے میرے ذہن میں پلنے والے شکوک و شبہات کو دور کردیا ہے ، میں سراپا تشکر ہوں جناب ، سدا خوش رہیں ، والسلام
اللہ برکت دے ، بھیا تم خرم بنو ، میں م۔م۔مغل بنوں گا ، ہم سب اپنا ذائقہ لے کر پیدا ہوئے ہیں اپنا آپ اور لہجہ دریافت کرنا پڑتا ہے ہم بھی کوشش میںآپ بھی کوشش کرو ، اللہ کرے زورِقلم مشقِ سخن تیز، جیتے رہو بھیا
مطیع صاحب ۔
اول تو آپ گوگل میں biology powerpoint slides تحریر کرکے تلاش کرسکتے ہیں ایسی بہت سی ویب سائٹ مل جائیں گی
ایک سائٹکا لنک میں پیش کررہا ہوں ۔ ملاحظہ کیجے امید ہے آپ کے کام آئیں گی۔۔ ربط یہ ہے
بہت شکریہ وارث صاحب میں نے اسے مزمار سے بدل دیا ہے ، مجھے املا صحیح معلوم نہ تھی سو مضمار لکھ گیا، اب اسے مزمار کردیا ہے جس کی جمع مزامیر ہے ، لغتِ دہخدا سے اقتباس حاضر کرتا ہوں، التزام کا معاملہ تو حل ہوا ، مگر میں فارسی سے شد بد نہیں رکھتا سو اگر آپ ترجمہ کردیں تو میں اپنے پاس محفوظ کرلوں...
بہت شکریہ ڈاکٹر منیر صاحب
اگر آپ کے متن پر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تو ان کے متن پر کیوںنہیں ہوتی ، اسے ہی منافقت کہتے ہیں ،میں گزارش کروں گا کہ آپ اس کشید ہ متن کو اپنے بلاگ کی زینت بنائیں اصل کے اقتباس کے ساتھ ۔ بہت شکریہ
بہت بہت شکریہ وارث صاحب، حوصلہ افزائی کے لیے ممنون ہوں ۔
بحر ووزن کا معاملہ دیکھ لیجے گا یہ غصے کہا گیا کلام ہے کہیں غوطہ کھاگیا ہوں گا نشاندہی کردیجےگا۔
صرف ’’ بھائی ‘‘ کی شان میں نہیں ساری استحصالی قوتوں کے نام ہے یہ کلامِ خرافت نظیر :grin:
’’ ہجو ‘‘
خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک
خاک در خاک ترے سب درو دیوار پہ خاک
بستیاں خوں میں نہاتی ہیں چمن جلتے ہیں
خاک در خاک تری گرمی ء گفتار پہ خاک
اس سے بہتر تھا کہ اقرار ہی کرلیتا تو !
خاک در خاک تری جراءت ِ انکار پہ خاک
شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش
خاک در خاک ترے...
گیا تھا کل اتوار کو ان صاحب سے میٹنگ ہے وہ ، ہمیں سپورٹ کرنے پر آمادہ ہے ، انشا اللہ ایک بڑا اجتماع رہے گا۔ کراچی کے سب اردو بلاگرز کو دعوت دی جائی گی۔ انشا اللہ