معاملہ اس قدر واضح ہے کہ وضاحت میں جاتے ہنسی آتی ہے۔
رسائل جرائد میں "ہر قسم" کی رائے اورمضامین شائع نہیں ہوتے۔ ایسا کچرا جرائد ہی میں ہوتا ہے۔ بچوں کے رسالے میں بھی ادارتی بورڈ چھان پھٹک کے معیار کے مطابق کہانی شائع کرتا ہے۔ ورنہ رسالے کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔
یہ تو پھر ایک مذہبی تحقیق مدرسہ...