لو جی حضرت اس عمر میں بھی جاناں ملک بننا چاہ رہے ہیں :)
یہ پیار ویار والی بات شادی شہداؤں کو اپنی اپنی گھر والیوں کی نظر سے دور رکھنی چاہئیے ورنہ وہ بڑھاپے میں جوانی والی دوہتھڑ مار مار کر برا حال کر دیں گی :D
جو کرسمس اور ویلنٹائن منانا چاہتے ہیں وہ بھی آزاد ہیں لیکن اگر وہ پبلک کے لئے آزار بنتے ہیں تو ان پر بھی پابندی لگا دینی چاہئیے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔
جی نظامی بھائی ، میں نے یہ پروگرام ٹیلیویژن پر ہی دیکھ لیا تھا اورایسی ”مشکل“ اردو پر حیران ہوتے اپنے صاحبزادے کو کلاسیکل اردو لکھنے والی شخصیت کا تعارف بھی کروا دیا تھا۔
تمام قسم کی تقریبات کو دوسروں کے لئے سوہانِ روح بنانے پر پابندی کی بات ہو رہی ہے عالی جاہ۔ پورے دھاگے کا مطالعہ فرمائیں اور ڈاکٹروں سے بھی معلوم کر لیں کہ ٹینشن اور شور کس قدر خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
جناب ، عوام بھلے ”جوک در جوک“ یا ”چوک در چوک“ آئے ہم حاضر ہیں۔ نہ صرف صدائے عام ہے بلکہ ”صدائے آم“ بھی ہے ۔ انیس الرحمن بھائی کراچی سے لا کر آم پیش کر کے ہمارے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔:)