نتائج تلاش

  1. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    خیالی ہیں میاں سب
  2. الف عین

    میرے نبی ہیں آقا میں ہوں غلام ان کا----برائے اصلاح

    مطلع ٹھیک ہے، لیکن دوسرے مصرعے میں کہیں 'ہے' آتا تو بہتر تھا راہِ خدا سے کوئی ہرگز بھٹک نہ جائے رستہ دکھا رہا ہے سب کو کلام ان کا ------------ درست تو ہے لیکن 'کلام' سے لوگ کچھ اور معنی بھی. لے سکتے ہیں، قرآن پاک یا شاعری! ہوتا ہے ذکر ان کا دنیا میں سب سے بڑھ کر عرفیٰ کیا ہے رب نے دنیا میں نام...
  3. الف عین

    باعثِ درد جو سینے میں سسکتی ہے غزل

    بے تاب دھڑکتی... اور بے باک تھرکتی... بہتر متبادل ہین
  4. الف عین

    درد، تجھ سے تو آشنائی ہے - ایک نئی غزل

    وہ پرانا گانا تو شاید ہی آج کل کی نسل کو معلوم ہو، بہر حال ۔ چاہو تو اصل مطلع کو ہی رہنے دو، یا کچھ اور الفاظ بدل کر دیکھا جائے باقی تو درست ہی ہے
  5. الف عین

    برائے اصلاح: کسی کو سکھ نہ دے پائے، تو ہے وہ کیا جہاں گیری

    یہ بحر، اگر ہے یہ غزل اسی بحر میں تو، بہر حال رواں نہیں، غالب نے ایک دو غزلیں ضرور کہی ہیں اس میں، لیکن تمہاری غزل کو اس بحر میں تقطیع کر کے دکھاو
  6. الف عین

    میرے نبی ہیں آقا میں ہوں غلام ان کا----برائے اصلاح

    بشرطے فرصت بعد میں آتا ہوں، تب تک دوسرے احباب بھی دیکھ لیں اسے
  7. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    قابل احترام تو سیما علی بھی ہیں. سب کی سیما آپی بلا رہی ہیں یہاں دوستو، آ جاؤ اب تو!
  8. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    صحیح بات میرے لیے تو یہ ہے کہ میں نے استادوں سے ہمیشہ محبت پائی ہے اور اس کے باوجود بزعم خود کامیاب ہی رہا ہوں
  9. الف عین

    باعثِ درد جو سینے میں سسکتی ہے غزل

    درد سے ہجر کے، سینے میں سسکتی ہے غزل جان لو تب ہی تو آنکھوں سے ٹپکتی ہے غزل بہتر ہے آتشِ ہجرِ مسلسل میں دہکتی ہے غزل کی ساری گرہیں 'ایسے' 'اس طرھ' کے کسی ربط کی کمی کی شکار ہیں ہجر مسلسل کی جگہ آتشِ ہجرِ مین کچھ ایسے دہکتی ہے غزل آتش.... اس طرح دہکتی.... کیا جا سکتا ہے پہلا مصرع مری آنکھوں کا...
  10. الف عین

    برائے اصلاح :آنا اپنی مٹانے جا رہا ہوں۔

    بہت سے میں گلستانِ سخن میں نئے غنچے کھلانے جا رہا ہوں .. روانی اچھی نہیں، یوں کر کے دیکھو گلستان سخن میں پھر بہت سے میں اپنا چیر کر دل آج الفت اسے اپنی دکھانے جا رہا ہوں۔ .. یہ بھی رواں نہیں کسی جنگل میں نغمے آج کی شب میں بلبل کو سنانے جا رہا ہوں۔ ٹھیک ہی ہو گیا۔ پریاں جنگل میں نہیں رہتیں اور...
  11. الف عین

    برائے اصلاح: کسی کو سکھ نہ دے پائے، تو ہے وہ کیا جہاں گیری

    یہ کہتا رہتا ہوں کہ مستعمل بحور میں ہی شاعری کی جائے تو روانی محسوس ہوتی ہے، اساتذہ کو بھی اصلاح کرنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ وہ پہلے تقطیع کر کے وزن کا تیقن کریں اس کے بعد دوسرے امور دیکھیں۔ مستعمل بحور میں فوراً عروضی غلطی کا پتہ لگ جاتا ہے کہ یہاں روانی متابر ہو رہی ہے۔ غیر مستعمل بحر تو پوری...
  12. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    شام سے پھر کوئی نہیں آیا یہاں؟
  13. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ظالم ظ مجھ پر ہی آ جاتا ہے اور اس کا ظلم مجھ سے سہا نہیں جاتا
  14. الف عین

    اپنے نفس کی قید سے نکلا نہ جا سکا----برائے اصلاح

    پہلے دونوں اشعار پر عظیم میاں کا مشورہ اچھا ہے تجھ سے حسین اور بھی ملتے رہے مجھے لیکن کسی بھی اور کو چاہا نہ جا سکا ----------- دوسرے مصرعے میں بھی بھرتی کا لگ رہا ہے، یا 'کسی اور کو بھی' ہوتا رو درست ہوتا تجھ کو جفا کا شوق تھا کرتے رہے یہی -------یا تیری جفا کو بھول کے کرتے رہے وفا مجھ سے تجھے...
  15. الف عین

    برائے اصلاح :آنا اپنی مٹانے جا رہا ہوں۔

    انا اپنی مٹانے جا رہا ہوں میں اس کو اب منانے جا رہا ہوں ... دوسرے مصرعے میں 'اب' اب بھی حشو ہے۔ میں ظالم کو..... بہتر نہیں ہو گا؟ ستارے توڑ لاؤں گا فلک سے تخیل میں اڑانے جا رہا ہوں .. درست پرانی سوچ کو گٹھڑی میں رکھ کر میں دریا میں بہانے جا رہا ہوں .. درست میں اب شعر و سخن ہی کے چمن میں نئے...
  16. الف عین

    برائے اصلاح: کسی کو سکھ نہ دے پائے، تو ہے وہ کیا جہاں گیری

    صرف پہلا مصرع مفاعیلن چار بار کی بحر میں لگ رہا ہے، باقی کی بحر اگر کچھ ہے تو میں سمجھ نہیں سکا
  17. الف عین

    علامہ کی نظم "آزادیِ افکار" پر ایک کوشش برائے اصلاح

    حق نے جسے پرواز نہ بخشی وہ پرندہ کوئی جو ہو پرواز سے محروم پرندہ پرواز کی قوت جسے بخشی نہ ہو رب نے طائر اڑا بھی دیں جو نہیں لائقِ پرواز اس کے لیے صیاد ہے ہر باغ کی ڈالی .. پہلا گرامر کے حساب سے درست نہیں دوسرا رواں نہیں تیسرا درست چوتھا بحر سے خارج ہر سینہِ آدم میں سما سکتا ہے کیسے کب سوچ کے...
  18. الف عین

    درد، تجھ سے تو آشنائی ہے - ایک نئی غزل

    مطلع میں ایطا ہو گیا ہے، غور کریں اس کے علاوہ اجنبی سا سکون بھی تو ملے درد، تجھ سے تو آشنائی ہے .. سا سکون.. میں تنافر کی کیفیت ہے، مفہوم کے اعتبار سے بھی بہتر یوں ہو گا اجنبی ہی سہی، سکوں تو ملے شام اتری ہے پھر اداسی کی ایک پژمردگی سی چھائی ہے .. پھر کے ساتھ اگلے مصرع میں 'ایک' کچھ مناسب...
Top