جنّت کی ہے تلاش تو رب سے بنا کے رکھ
دل کو اسی کی یاد میں ہر دم لگا کے رکھ
------- ٹھیک ہے
جو بھی کرے وہ کام ہو رب کے لئے ترا
دل میں اسی کے پیار کی شمعیں جلا کے رکھ
---------- ربط نہیں لگ رہا، پیار کی شمع جلانے سے کیا خود بخود اللہ کی مرضی کے مطابق کام ہو سکیں گے!
تجھ کو خدا کی راہ میں سہنا...
باقی غزل تو درست لگ رہی ہے مگر
تو جہاں بھی رہے مخفی نہیں ہوتا ہم سے
تیری خوشبو ترے ہونے کا پتا دیتی ہے
... شاید مخفی نہیں رہتا بہتر ہو
مسکراہٹ شبِ سرخاب میں تیری میثم
خون کے آنسو بہت ہم کو رلا دیتی ہے
.. شب سرخاب کیوں؟ سمجھ میں نہیں آیا
مزید یہ کیا محفلین سے اجتماعی غزل کہلوانے کا ارادہ ہے۔ ابھی وہ غزل دیکھی ہے جس میں فرمائش ہے کہ مزید اشعار دوسرے کہیں! یہاں صرف ایک گرہ لگوائی جا رہی ہے
قفس کے قید بے معنی ہے، قفس کے قیدی کہا جا سکتا ہے
لیکن قید کی حالت کے لئے صرف قفس میں قید درست ہے
جب ایک ہی مصرع ہے، زمین کی مجبوری نہیں تو مکاں تک لاؤں جیسے مہمل فقرے کی کیا ضرورت ہے؟
امین شارق کسی رکن کو ٹیگ کرنے کے لئے @ٹائپ کر کے اس کے بعد رکن کے نام کے کچھ حروف ٹائپ کریں، محفل خود ناموں کی فہرست مہیا کرے گی۔ جیسے تم نے ٹیگ کیا ہے، ویسے تلاش کی مدد کے لئے ٹیگ بنانے جاتے ہیں
طبیعت میں تو موزونیت محسوس ہوتی ہے لیکن تقطیع درست نہیں، آخری شعر دیکھیں، دونوں مصرعے بحر سے خارج...
ماشاء اللہ اچھا دو غزلہ ہے لیکن کہیں کہیں عجز بیان کا شکار ہے۔ کچھ الفاظ کی کمی کی وجہ سے ابلاغ میں مشکل ہوتی ہے جیسے آخری دو اشعار دیکھو
مانگا جو میں نے ہاتھ تو وُہ خود پسندشخص
اوقات میں رہوں مَیں، صلا دے گیا مجھے
... یہ صلہ ہونا چاہیے تھا، صرف صلا سے ذرا مشکل ہوتی ہے
مقبول، مَیں بلاؤں گا...
ان لائن جریدے سمت کا شمارہ ٤٨ مطابق اکتوبر تا دسمبر ٢٠٢٠ء شائع کر دیا گیا ہے
اس شمارے میں
عقیدت
شاہین
یاد رفتگاں کے تحت
راحت اندوری کی کچھ غزلیں اور ان کے آخری اشعار
ارمان نجمی کی خود نوشت سوانحی تحریر اور ان کی کچھ نظمیں
نصرت ظہیر پر حقانی القاسمی کا مضمون اور ان کے اپنے دو مضامین (جو اتفاق...
نظم والے حصے کی پروف خوانی جاری ہے، میری فائل میں بھی کمپوزنگ کی بہت اغلاط تھیں، اور ظاہر ہے کہ نظم کا حصہ سب پہلے ٹائپ ہوا تھا، اور اس زمانے میں ریختہ کا وجود نہیں تھا جو اصل نسخے تک رسائی ہوتی