غزل
کچھ ایسےخوش بھی نہیں آشیانہ چھوڑ کے ہم
ٹھکانے لگ نہیں پائے ٹھکانہ چھوڑ کے ہم
کمانِ شوق نے پھینکا تھا دور اور کہیں
کہاں پہ آن گرے ہیں نشانہ چھوڑ کے ہم
ابھی خبر نہیں چلنا ہے نو کہ یا سو دن
نئے کے ساتھ چلے ہیں پرانا چھوڑ کے ہم
بھلا بتاؤ کہیں اور جائیں گے کیسے
تمہارا طرزِ رخِ...