تو ہے شہرتوں کے عروج پر یہ مرے جنوں کا کمال ہے
یہ ہے تیرےحسن کا مُعجزہ تو فقط یہ تیرا خیال ہے
... دوسرے مصرعے میں 'تو' واضح نہیں ہوا،
جو زباں بھی کاٹ کے لے گئے جو ہیں قفل مُنہ پہ لگا گئے
وُہ نکال دیں گے کیا آنکھ بھی ، یہ ہر اک نظر میں سوال ہے
یا
وُہ لپیٹ دیں گے نظام کیا ، یہ ہر اک نظر میں سوال...