شادی کے لیے بیٹی کی گھر بیچ رہا ہے
دستار بچانے کو وہ سر بیچ رہا ہے
مطلع میں پہلے مصرع کا فاعل موجود نہیں، اس لئے میرا مشورہ ہے کہ دوسرے کو اولی مصرع بنا دیں، 'بیٹی کی گھر' بیانیہ بھی اچھا نہیں، کچھ الفاط بدل دو
بے کار میں گٹھ خیر کی پھرتا ہوں اٹھائے
.. یہ گٹھ بجائے گٹھری/گٹھڑی کے میں نے تو نہیں...