بنتا نہیں جو میرا اس کو بھلا رہا ہوں
بیکار ہے یہ کوشش دل ہی جلا رہا ہوں
---------- دو لخت لگتا ہے
لمحے جو کھو گئے ہیں ان کو ہی یاد کر کے
مدّت گزر گئی ہے آنسو بہا رہا ہوں
------------ مدت کاہے کی گزر گئی ہے؟، آنسو والا ٹکڑا بے ربط ہے
کچھ نیکیاں کمانے آیا تھا اس جہاں میں
دامن میں سب بُرائی لے کر...
کل ورڈ پریس نہ جانے کیا مسئلہ کر رہا تھا، آخر شمارے کو ڈرافٹ بنا کر چھوڑ دیا۔ ابھی صبح دوبارہ لائیو کیا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں لگ رہا ہے ۔ پہلے جو احباب جنوری کا شمارہ نہیں دیکھ دمسکے تھے، وہ پھر کوشش کریں
سنور آنا محاورہ تو نہیں مگر برداشت کیا جا سکتا ہے
منہ لگانے والا مصرع یوں کیا جا سکتا ہے
میں اسے منہ لگانے والا نہیں
یا
اس کو منہ بھی لگانے والا نہیں یا
اس کو منہ بھی نہیں لگاؤں گا
عزیزان گرامی
نیا سال ۲۰۲۱ء مبارک
نئے سال کے پہلے ہی دن حسب معمول آپ کے پسندیدہ جریدے ’سَمت‘ کا نیا شمارہ لے کر حاضر ہوں۔
تازہ شمارہ - سَمت
شاید آپ خواتین و حضرات اس سال کے سب سے بڑے ادبی سانحے کی امید کر رہے ہوں گے، یعنی شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے سانحۂ ارتحال کے سلسلے میں کچھ ضراج پیش کیا گیا...
باقی اشعار تو ماشاء اللہ درست ہیں
انصاف نہ ہونے سے ہی مٹنی رہیں قومیں
اس قوم کو مٹنے سے بچا کیوں نہیں دیتے
--------------- یہاں درست محاورہ بچا لیتے ہونا چاہئے
ارشد کی باتیں تو بتانے کے لئے ہیں
جو حشر اٹھانا ہے اٹھا کیوں نہیں دیتے
یہ سمجھ میں نہیں آیا
یہ بحر تم کو بہت پسند ہے شاید اور یہ ردیف بھی! ہر جگہ کر دیا درست فٹ نہیں ہوتا۔ مجھے یہ بحر رواں نہیں لگتی، مفاعیلن چار بار زیادہ رواں ہوتی ہے۔ بہر حال
اس نے مرے دشمن سے ملنے کا اعادہ کر دیا
ایسے ہی مہلک وار کر کے مجھ کو لاشہ کر دیا
... لاشہ کر دیا محاورہ کے خلاف ہے، ویسے ٹھیک ہے
یہ حسن بھی...
ہاں، زیست کے ساتھ مطلع درست ہو جاتا ہے
وہ پتھروں کو گریہ سنایا ہے کہ آخر
نالوں نے مرے کر دیا سینے کو مرے چاک
یا
وہ پتھروں کو گریہِ دل سوز سنایا
گلیوں میں لیے پھرتا ہوں اب سینہِ صد چاک
.. اب بھی پہلا مصرع مفعول مفاعیل میں بہتر رقطیع ہوتا ہےاٹھا جو تری بزم سے طوفاں میں گھِرا ہوں
ہر آن میں گردش میں...