خوشی صاحبہ، آپ تواتر سے آتی رہیںسب معلوم ہوجائے گا کہ لڑٰ ی کس لیے ہے ۔
محفل میں’’ شاعرِ محفل ‘‘ کا ایک تمغہ دیا جاتا ہے ، جس میںنومینیشن پر گفتگو ہوتی ہے۔
بس یہ لڑی اسی کام کے لیے ہے ۔ شکریہ
(میں نے تدوین کردی ہے )
یہ ہم جو عشق میں بیمار پڑتے رہتے ہیں
بس اک سبب ہے تعلق بحال کرنے کا
تلاش کر مرے اندر وجود کو اپنے
ارادہ چھوڑ مجھے پائمال کرنے کا
محسن اسرار
(شور بھی ہے سناٹا بھی)
بہت بہت شکریہ مکی صاحب ، یہ مراسلہ میںنے آج دیکھا، مجھے افسوس ہے گزشتہ دنوں آپ سے ملاقات نہ ہوسکی ، شعیب صفدر صاحب کا فون بھی آیا تھا، مگر۔، وائے بدبختی
غزل
کسی نظارہ ٔ بیزار سے گراتا ہوں
میں خواب خواب کے معیار سے گراتاہوں
پھر اس کے بدلے مجھے اپنا زخم رکھنا ہے
اگر چراغ کو دیوار سے گراتا ہوں
میں ٹوٹنے کے عمل سے ہوں اس قدر مانوس
کہ خود کو دستِ خریدار سے گراتا ہوں
وہ میرے سامنے تعبیر ہونے لگتا ہے
جو خواب دیدۂ بیدار سے گراتا ہوں...
غزل
گلِ نشاط میں رکھا نہ فصلِ غم کو دیا
صبائے عشق نے خوشبو کا ظرف ہم کو دیا
عجب سکوں ہے طبیعت میں جب سے اس دل نے
تری خوشی کی ضمانت میں اپنے غم کو دیا
زبانِ خلق نے کیا کیا نہ ہم کو نام دھرے
کرم کا نام جو ہم نے ترے ستم کو دیا
بہت ملال سے کہتی ہیں اب تری آنکھیں
یہ کیسے چاند کو ہم...
غزل
عجب نہیں کہ اسے بھی یہ ہجر راس نہ ہو
سو اس قدر بھی دلِ منتظر اداس نہ ہو
ترے فراق میں بھی نشّہ قربتوں کا ملا
سو تیرے بعد رفاقت کسی کی راس نہ ہو
یہ میری بے طلبی ایسا دن بھی دکھلائے
کہ جام سامنے ہو اور لب پہ پیاس نہ ہو
بہت سے پھول ہوں، میں ہوں مری اداسی ہو
اکیلا چاند ہو اور...
بہت خوب بہت خوب کاشفی صاحب۔ کیا اچھا انتخاب ہے واہ
بس ایک زحمت کہ :
ہم نے پوچھا نہیں مذہب کیا ہے
حُسن دیکھا سلام کر بیٹھے
میں مصرع اولی یوں ہوگا ؟
ہم نے پوچھا نہیں ہے مذہب کیا