ہوائے شام چلنے کے لیے بے تاب ہے جاناں
بس اب یہ آخری ہچکی ہے، اپنے زانوؤں پر میرا سر رکھ لو
مری آنکھوں کے اوپر اپنے ہاتھوں سے
ذرا اِن زرد پلکوں کے شکستہ شامیانے کو گرا دو اور
مرے ماتھے پہ بوسہ دو
مرے ماتھے پہ اُن ہونٹوں کا بوسہ دو
کہ جن کے لمس کی شبنم سے میرے ہر مشامِ جاں
میں کلیاں سی چٹکتی...